نخل سخن
راز ہستی
کسے خبر کہ ہوتا ہے آہوئے حسیں
وحشت شباب میں غزالۂ مشکیں
سحر خیز دھڑکتے ستاروں کے پس پرده
شعلہ فشاں ہے اک آفتاب بریں
صبح دم ہی جو نکلتے ہیں جذبۂ فتح کے ساتھ
شام تک وہی ہوتے ہیں فاتح افلاک و زمیں
جو کرتے ہیں خود پر اور خدا پر اعتماد
تسخیرِ جبینِ کائنات انہی کے پیشِ جبیں
برفانی راتوں میں برف سے کھیلنے والے بچے
شعلہ شراری میں ہوتے ہیں جواں سال سیمیں
شب غم جن کی خامہ نوائی سے عروس
وہی کرتے ہیں حق کے لئے اپنی تلواریں خونیں
راہی و متلاشیٔ منزل کو یہ معلوم ہو
جہدِ مسلسل سے تو مل جاتا ہے خدائے اعظمیں
از : نائلہ حنا خان
}١٩ جون ١٩٩١{ء